جواب:
کیونکہ ضَرَبَتَا میں ت اصل میں ساکن تھی، اسے الف کی وجہ سے حرکت دی گئی تو چونکہ یہ حرکت عارضی ہے، اس لیے یہ کالعدم ہے، لہٰذا اس صیغے میں توالیِ حرکات نہیں پائی جارہی بخلاف ضَرَبْنَ کے کہ اس میں نون کی حرکت اصلی ہے اس لیے ب کو ساکن کردیا گیا، یہی وجہ ہے کہ رمی یرمی سے رَمَتْ کی طرح رَمَتَا میں بھی الف کو اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرایا گیا ہے، کیونکہ رَمَتَا اصل میں رَمَیَتَا تھا، ی متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلا تو رَمَاتَا ہوگیا، پھر اس الف کو اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرادیا، کیونکہ ت ساکن کے حکم میں ہے۔