رخ دیکھ کر ہوا کا ہمدم بدل گئے
رخ دیکھ کر ہوا کا ہمدم بدل گئے
بارش سے پہلے جیسے مہماں نکل گئے
صدموں سے میری حالت خستہ ہوئی ضرور
کچھ ہم نشین شاکر خطرہ تھے، ٹل گئے
دردِ جدائی دے کر عیّار نے کہا
لو ہم تمھاری ہستی سے جاں نکل گئے
درد و الم خدا سے کچھ اس طرح کہا
سوز بیاں سے یارو! پتھر پگھل گئے
مرنے سے خوف کیسا؟ مرنا ہے زندگی!
جینے سے ڈر رہا ہوں، گر پا پھسل گئے
کنوئیں کا ایک مینڈک، اپنی جگہ رہا
ہم موجِ بحر یارو! حد سے نکل گئے
راہ وفا میں شاکر، کانٹے تھے، دھوپ تھی
اس واسطے مسافر رستہ بدل گئے
شاعر:
حکیم شاکر فاروقی