دلِ ناداں تجھے روکا بہت تھا ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم
دلِ ناداں تجھے روکا بہت تھا دلِ ناداں تجھے روکا بہت تھامگر تو کر عشق میں بھولا بہت تھا وہ رونق پھر نہ دیکھی آئینے میںتری صحبت میں میں ہنستا بہت تھا کوئی بھی غم نہیں تھا زندگی میں ترا دیدار جب ہوتا بہت تھا مجھے سلجھا نہیں پایا کوئی پھر تری زلفوں میں میں […]
خدا کے نام پر جو مر نہیں سکتا ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم
خدا کے نام پر جو مر نہیں سکتا خدا کے نام پر جو مر نہیں سکتاوہ کچھ بھی زندگی میں کر نہیں سکتا جو جاں پر کھیل کر آیا ہے منزل تککسی طوفاں سے اب وہ ڈر نہیں سکتا نہ ہو جس دل میں احساساتِ انسانیکسی کا بھی بسا وہ گھر نہیں سکتا نہیں جس […]
حق و باطل میں ہیں دیوار وہ سارے ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم
حق و باطل میں ہیں دیوار وہ سارے حق و باطل میں ہیں دیوار وہ سارےمری سرکار کے انصار وہ سارے نہیں چھوڑا کسی نے ساتھ حق سچ کاتھے رستے کس قدر دشوار وہ سارے بنے ہیں جو نبیؐ کی آل کے دشمن عذابِ حق کے ہیں حق دار وہ سارے حَسَد کرتے ہیں جو […]
اس بات سے رہتا ہوں پریشان مسلسل ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم
اس بات سے رہتا ہوں پریشان مسلسل اس بات سے رہتا ہوں پریشان مسلسلرستہ ہے اجل کا تو بیابان مسلسل دنیا میں کوئی بات بھی مانی نہیں تم نےجب روک رہا تھا تمیں قرآن مسلسل مخلوق خدا اور بھی دنیا میں ہے عالمؔانساں ہی اٹھاتا ہے کیوں نقصان مسلسل؟ تو بھول گیا بات یہ کیسے […]
بھائی ۔۔۔۔ قطعہ از محمد شیر عالم
بھائی اک بھائی کو ہے درکار بھائیاک بھائی سے ہے بیزار بھائیمشکل کشائی کرتا ہے عالمؔہوتا نہیں ہے، بے کار بھائی
مظلوم کو انصاف یوں پاتے نہیں دیکھا ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم
مظلوم کو انصاف یوں پاتے نہیں دیکھا مظلوم کو انصاف یوں پاتے نہیں دیکھاظالم کو کبھی دار پہ آتے نہیں دیکھا زردار کی آرائشیں دم ہی نہیں لیتیںمسکین کودو وقت بھی کھاتے نہیں دیکھا تعداد بہت کم تھی مگر ابن علی تھےمیدان انھیں چھوڑ کے جاتے نہیں دیکھا جس طرح کی قربانیاں تھیں آل نبی […]
غربت نے، در بدر کیا ہے ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم
غربت نے، در بدر کیا ہے غربت نے، در بدر کیا ہےبزدل کو بھی، نڈر کیا ہےجتنا بھی دکھ ملا ہے تم سےہم نے وہ در گزر کیا ہےتم جس کا سوچتے ہی ڈر جاوہم نے طے وہ سفر کیا ہےنکلا ہوں میں اُسی کی خاطردل میں جس کے بھی گھر کیا ہےمیں تیرا تو […]
منہ سے تو بس ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم
منہ سے تو بس کلام ہوتا ہے منہ سے تو بس کلام ہوتا ہےدل سے ہو پھر سلام ہوتا ہےہاتھ اٹھائے ہوے گزر جانایہ تو رسما سلام ہوتا ہےاوئے ہیلو یہ وہ کیا ہے سببندے کا کوئی نام ہوتا ہےجو ہو منسوب نام سے ان کےخوبصورت وہ نام ہوتا ہےسیکھو استاذ سے معلم کادل میں […]