آج کل مجھ کو ہے اس کے جانے کا غم
آج کل مجھ کو ہے اس کے جانے کا غم
جس کے غم سے ہے کم کل زمانے کا غم.
پھول سی اک کلی خاک میں مل گئی
خاک کو بھی ہوا اس خزانے کا غم.
یاد کرنا بھی ہے درد دل کا سبب.
اور قیامت ہے اس کو بھلانے کا غم.
پر نکلتے ہی پرواز جو کر گئے
جانتے کب وہ ہیں آشیانے کا غم.
کس تبسم میں کرب اور کس میں خوشی
کون سمجھے یہاں مسکرانے کا غم
غم کی جاگیر میں ایک غم یہ بھی ہے
شعر لکھ کے منزہ مٹانے کا غم.