محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

خواب نامہ

اک شخص نے خوابوں سے لکھی ایک کہانی
تعبیر کے صفحوں پہ قلم کرنے کی ٹھانی

تقلید میں کیا صاحبِ دستار جو آئے
گلزار ہوا آہِ شرر بار کا پانی

تدبیر کے اوراق میں کچھ اور لکھا تھا
تقدیر کے صفحات پہ تھی اور کہانی

وہ لمحہ لہو خیز کہ اے کاش نہ آتا
مٹی کے حوالے ہوئی بھرپور جوانی

قانونِ خداوند سے انکار نہیں ہے
قانونِ خداوند میں ہر چیز ہے فانی

ہے یہ بھی اسی ذات کے قانون میں شامل
ہر عہد میں ہر شخص کا موجود ہے ثانی

اس شخص کے افکار میں پھر ابھرے وہ موتی
تھا سر میں جنوں، دل میں خیالِ ہمہ دانی

تھے جمع مئے خانوں میں رندانِ عجم اور
موجوں میں طلاطم تھا تو دریا میں روانی

اس شورِ جنوں خیزی میں حالات کٹھن تھے
جب سرخ شہیدانِ لہو سے ہوا پانی

لاہور کی گلیوں میں ابھی تازہ ہے منظر
لاہور کی مٹی میں وہی اشک فشانی

دلی ہو، پشاور ہو، علی گڑھ ہو کہ پنجاب
تھی خون میں لتھڑی ہوئی لاشوں کی کہانی

مشرق پہ بکھرتی ہوئی سرخی کو ذرا دیکھ
یہ شام نہیں رات نہیں، دن کی نشانی

اک فکر سے کھلتے ہیں نئی فکر کے ابواب
پھر اس میں خزائن ہیں زمانی و مکانی

کردار جو تعمیرِ چمن میں تھے نمایاں
سنتے ہیں ابھی ان کو بزرگوں کی زبانی

جب وقت تھا تزئینِ چمن کے لیے مخصوص
نے فکر، نہ تحریک فقط فلسفہ دانی

انسان کی فطرت میں تکبر کا ہے عنصر
مقصود ہے اوروں کی فقط خاک اڑانی

اس دیس میں سندھی یا بلوچی نہیں کوئی
ہم ایک ہیں، ہم نے ہی یہاں قوم بنانی

یہ قول مرا قول نہیں، قول ہے اس کا
کہتے ہیں جسے ملکِ خداداد کا بانی

بندوق کسی اور کے کندھوں سے چلانا
انسان کی فطرت میں یہ خصلت ہے پرانی

ہر دور میں، ہر جرم میں، ہر شخص تھا شامل
صد حیف، کہ لازم تھا ہر اک بات چھپانی

آزادیِ افکار کا اک نعرہ لگا اور
نعرہ تھا کسی اور غلامی کی نشانی

یہ ایسی غلامی ہے کہ آقا نہیں کوئی
یعنی کہ غلاموں سے ہمیں جان بچانی

جس قوم کی بنیاد تھی مذہب کا تحفظ
ہے مسٔلہ اس قوم کا مذہب کی گرانی

جس قوم کی بنیاد تھی بس غیرت و ایمان
اس قوم کو معلوم نہیں اس کے معانی

بس فلسفہ، منطق کے بکھیڑے ہیں یہاں پر
نے خوئے عمل اور نہ تاثیرِ زبانی

ہیں جمع مگر اب بھی مئے خانوں میں رنداں
موجوں میں طلاطم ہے نہ دریا میں روانی

اب فکر کے انوار سے روشن نہیں سینے
اب دل کو لبھاتی ہے یہاں رات کی رانی

تکرارِ سیاست میں یہ الجھائی گئی قوم
آپس میں ہے آقاؤں کی یہ جنگ پرانی

ہر شخص کے ہاتھوں میں صداقت کا علم ہے
خود اپنے علَم سے ہے طبیعت خفقانی

بس جشن مناتے ہیں کہ آزاد ہیں ہم لوگ
کرتے ہیں شب و روز فقط زمزمہ خوانی

اے برجِ سیاست! ترے دھندے کو سلامی
مشغول گہِ بحث ہے ہر باپ کی رانی

کچھ بھی نہ کیا اپنے مفادات کی خاطر
روزی ہے نہ روٹی ہے نہ بجلی ہے نہ پانی

میدان کے جانباز تو موجود ہیں لیکن
ڈھونڈے سے بھی ملتی نہیں غیرت وہ پرانی

وہ خواب تو موجود ہے تعبیر نہیں ہے
اس واسطے اپنی کوئی توقیر نہیں ہے