دشوار ہے زمیں پہ یوں چلنا قدم قدم
دشوار ہے زمیں پہ یوں چلنا قدم قدم
کیجے دعا کہ اب ملے بھی کوئی ہم قدم
بستی کو میری تیرا نشیمن متاعِ فخر
ہستی کو میری تیرے تصرف کا دم قدم
جوشِ وصال کیسا ہو ہوشِ خیال کیا
رکھ دے جہاں پہ آپ کا حسنِ ستم قدم
شام و سحر کا ان کے پتہ دیتے ہیں ہمیں
اب ان کے ہو گئے ہیں اے دل جامِ جم قدم
معدومؔ اہل دل پہ قدیم اک ہے یہ ستم
ان کے نہیں جو جاتے ہیں سوئے عدم قدم