محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

عاشقانہ مزاج

عاشقانہ مزاج پایا ہے عاشقانہ مزاج پایا ہےاک مرض لاعلاج پایا ہےجتنے سِمٹے ہیں فاصلے اُتنادوریوں نے رواج پایا ہےرنگ اور خوشبوؤں سے دلداریتتلیوں سا مزاج پایا ہےتیرگی میں کرن کرن ہم لوگجگنوؤں سے خراج پایا ہےعاشقی اور قرار چاہے دلکیسا سادہ مزاج پایا ہےوصل ممکن نظر نہیں آتاکتنا ظالم سماج پایا ہےروئے کچھ اسقدر […]

بند آنکھوں میں خواب کتنے تھے

بند آنکھوں میں خواب کتنے تھے بند آنکھوں میں خواب کتنے تھے دشت جاں میں سراب کتنے تھے لوحِ دل پر لکھے سوالوں کے آئنوں میں جواب کتنے تھے آج تک پوچھتا ہوں کانٹوں سے ٹہنیوں پر گلاب کتنے تھے شہر میں کوئی بھی نہ تھا تم سا میرے جیسے جناب کتنے تھے ہم نے […]

ہم سے ہوتا نہیں  سفر تنہا

ہم سے ہوتا نہیں  سفر تنہا ہم سے ہوتا نہیں  سفر تنہا دل کا رہتا نہیں نگر تنہاہر طرف بھیڑ ہے جدھر دیکھو  اس جہاں میں نہیں بشر تنہاملنا جلنا بہت ضروری ہے  عشق ہوتا نہیں امر تنہا خوف طاری ہے دل پہ جانے کیوں لگ رہا ہے یہاں بشر تنہامیرے جیون کا تم سہارا […]