محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

نبی الملاحم ﷺ کے مقدس آنسو

نہ آبِ نُقرہ، نہ آبِ گوہر، نہ آبِ زمزم، نہ آبِ کوثر
کوئی نہ اس دم سنبھل رہا تھا، نبی ﷺ کے انسو نکل رہے تھے

خدا نے پاس اپنے جب بلایا وہ ماریہ کے جگر کا ٹکڑا
دلِ منور پگھل رہا تھا، نبی ﷺ کے انسو نکل رہے تھے

ہوئے جو حمزہ کے ٹکڑے ٹکڑے، رسول ﷺ بھی ہچکیوں سے روئے
کلیجا اندر سے جل رہا تھا،  نبی ﷺ کے انسو نکل رہے تھے

جب آئے صدّیق زخم کھا کر، گلے لگایا نبی ﷺ نے آکر
نبی ﷺ کا ساتھی مچل رہا تھا،  نبی ﷺ کے انسو نکل رہے تھے

نبی ﷺ کا بے تاب تھا کلیجا، خدا نے نصرت کا وعدہ بھیجا
جو بدْر منظر بدل رہا تھا ،  نبی ﷺ کے انسو نکل رہے تھے

زباں پہ شب بھر رہی تلاوت ، وہ ”اِنْ تُعَذِّبْ“ کی پوری آیت
یہ جملہ دل کو کچل رہا تھا،  نبی ﷺ کے انسو نکل رہے تھے

یہی وہ امت ہے اے اسامہ! کہ جس کا غم تھا انھیں ہمیشہ
وہ غم نبی سے نہ ٹل رہا تھا، نبی ﷺ کے انسو نکل رہے تھے