رکھتے ہیں آئنوں کو بہت ہی سنبھال کر
رکھتے ہیں آئنوں کو بہت ہی سنبھال کر
کچھ اس لیے بھی خاص مری دیکھ بھال کر
میرا ہی نام آئے گا تیرے نصیب میں
تو دیکھ لے ہواؤں میں سکہ اچھال کر
ہم لائے جاچکے ہیں جہانِ خراب میں
یہ ہوچکا ہے دوست! اب اگلا سوال کر
اب وہ تہ مزار ہیں ، رکھتے تھے راز جو
وہ دور اب نہیں ہے لہٰذا خیال کر
کرنا ہے اعتکاف تو لوگوں کے دل میں بیٹھ
باہر نکل کے رابطہ سب سے بحال کر
میں اس کو جانتا ہوں ، ابھی مان جائے گی
تو میری مان ، اس کو ذرا ایک کال کر
کرنی ہے تم نے جو بھی ، اب ایسی بھی کیا ہے بات!
وحشت سی ہورہی ہے سبھی کو نکال کر